4 مارچ 2022 - 19:31
کراچی، ایم ڈبلیو ایم اور آئی ایس او کی سانحہ پشاور کیخلاف احتجاجی ریلی

احتجاجی ریلی و دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ ملک دشمن عناصر کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی خواہش کے بھیانک نتائج پوری قوم کو بھگتنے پڑ رہے ہیں، دہشتگردوں کے ساتھ ریاست کی مفاہمتی پالیسی کا یہ باب ہمیشہ کیلئے بند کیا جائے، تاکہ مستقبل میں مزید سانحات سے بچا جا سکے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ملک بھر کی طرح کراچی میں بھی مجلس وحدت مسلمین اور امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی جانب سے جامع مسجد امامیہ پشاور میں خودکش حملے کے خلاف محفل شاہ خراسان نمائش چورنگی سے گورنر ہاؤس تک احتجاجی ریلی نکالی گئی، شرکاء نے گورنر ہاؤس کے راستے میں کھڑی رکاوٹوں کو ہٹا کر مرکزی دروازے کے سامنے احتجاجی دھرنا بھی دیا، جس میں مختلف شیعہ تنظیموں کے رہنماؤں بشمول علامہ مختار امامی، علامہ باقر عباس زیدی ،علامہ صادق جعفری، آئی ایس کراچی کے صدر دیباج رضا، مرکزی تنظیم عزاداری کے صدر ایس ایم نقی، علامہ صادق تقوی، علامہ مبشر حسن، علامہ علی انور سمیت کثیر تعداد میں ملی شخصیات و کارکنوں نے شرکت کی۔ شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ پشاور کے المناک سانحے نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا ہے، اس المناک سانحہ کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، قیمتی انسانی جانوں کا غیر معمولی ضیاع انتہائی افسوسناک ہے۔

رہنماؤں نے کہا کہ ملک دشمن عناصر کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی خواہش کے بھیانک نتائج پوری قوم کو بھگتنے پڑ رہے ہیں، دہشتگردوں کے ساتھ ریاست کی مفاہمتی پالیسی کا یہ باب ہمیشہ کیلئے بند کیا جائے، تاکہ مستقبل میں مزید سانحات سے بچا جا سکے۔ رہنماؤں نے کہا کہ دہشتگردوں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانا امن و سلامتی کو دانستہ طور پر تباہی کی طرف لے جانے کے مترادف ہے، جامع مسجد امامیہ دہشتگردی کا یہ پہلا واقعہ نہیں، اس سے قبل بھی یہاں دہشتگردی ہو چکی ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ سیکورٹی اداروں کو مزید چوکنا ہونا ہوگا، تاکہ درندہ صفت عناصر کو کسی شرپسندی کا کوئی موقع نہ مل سکے۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ گزشتہ چالیس سال میں دہشتگردی کی سب سے زیادہ شکار ملت تشیع ہوئی ہے، اس پُرامن اور محب وطن قوم کو مزید آزمائش میں نہ ڈالا جائے۔

رہنماؤں نے کہا کہ پاکستان بنا تھا کہ تمام مسلمان اپنی اپنی مذہبی آزادی کے ساتھ زندگی گزاریں، پاکستان بننے کے بعد اسے مسلکی ملک بنانے کی کوشش کی گئی، عالمی سازشوں کی وجہ سے پاکستان کو مضبوط ہونے نہیں دیا جا رہا ہے، کچھ شدت پسند قوتیں استعمار کے بل بوتے پر حالات خراب کر رہے ہیں، حکومت اور عدالتوں کو شیعیان حیدرؑ کرار کا قتل عام نظر کیوں نہیں آتا ہے، ریاست کو معلوم ہے کہ ٹارگٹ کلنگ شروع ہوئی ہے تو سیکیورٹی فراہم کیوں نہیں کی گئی، حکومت کے پاس تمام تر وسائل ہونے کے باوجود شہداء کے تحفظ میں ناکام رہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ ریاست دیکھتی رہی اور مذہبی جنونیت کو سپورٹ کیا جاتا رہا، اس ملک کی عوام نے دہشتگردی کے سبب 80 ہزار لاشیں اٹھائیں۔

رہنماؤں نے کہا کہ ملک میں ضرب عضب سمیت دیگر آپریشن شروع کئے گئے، دہشتگردی کے خلاف ہونے والے آپریشن پر سنجیدگی اور مکمل عمل درآمد نہیں کیا گیا، دہشتگردوں کی جڑیں جو نسل کشی کی بنیاد بنتی ہیں، کیا ان کے خلاف کارروائی کی گئی، وہ جماعتیں اور لوگ جو دہشتگردی کی بنیاد بنے، انہیں کھلا چھوڑا ہوا ہے۔ رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا کے کالعدم جماعتوں پر پابندی لگائی جائے، دہشتگردی و تکفیریت پھیلانے والوں کے خلاف حکومت فوری قانونی کارروائی کرے، وزیراعظم عمران خان کو فوراً پشاور جانا چاہیے اور لواحقین کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔ بعد ازاں گورنر ہاؤس پر احتجاجی دھرنے کے شرکاء پُرامن طور پر منتشر ہوگئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

242